Skip to main content

Featured Post

Registrar Administration Fatima Jinnah Medical University

اہلیت اور تجربہ: ایم بی بی ایس / بی ڈی ایس کے ساتھ پی ایچ ڈی / ایف سی پی ایس / ایس ایم ایس / ایم ڈی یا اس کے مساوی قابلیت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعہ تسلیم شدہ میڈیکل کالج / یونیورسٹی / ٹیچنگ ہسپتال میں کم سے کم 10 سال کے درس / انتظامی تجربہ کے ساتھ پی ایم سی / ایچ ای سی کے ذریعہ تسلیم شدہ ہے۔ یا ایم بی بی ایس / بی ڈی ایس کے ساتھ ایم فل / ایم پی ایچ پی ایم سی / ایچ ای سی سے تسلیم شدہ اور میڈیکل کالج / یونیورسٹی میں 12 سال کا تجربہ۔ میڈیکل کالج / یونیورسٹی / ٹیچنگ ہسپتال میں تدریسی / انتظامی تجربہ کے ساتھ ایم بی اے (ایچ آر یا ایڈمن) کی اضافی قابلیت رکھنے والے امیدوار کو ترجیح دی جائے گی۔ یا پی ایم سی / ایچ ای سی کے ذریعہ تسلیم شدہ میڈیکل کالج / یونیورسٹی / ٹیچنگ اسپتال میں 17 سال کا انتظامی تجربہ رکھنے والے ایم بی بی ایس / بی ڈی ایس۔ یا پی ایچ ڈی / ایم فل یا ایچ ای سی سے تسلیم شدہ کسی بھی سرکاری / نجی شعبہ یونیورسٹی میں بطور رجسٹرار / ایڈیشنل رجسٹرار ( BS-20 / BS-19 ) کے طور پر کسی بھی مضمون میں مسابقتی قابلیت۔ نوٹ:-یہ پوسٹ مکمل طور پر غیر مشق ہے۔   ڈگری لیول : ...

The Holy Prophet (P.B.U.H)

 ایک بار جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں

ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا

اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے

اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے

چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے

تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے

دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گے

یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا

جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا

جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا

اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپ کی امت کے گنہگاروں کو ڈالیں گے

جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں

گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ حضرت علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنی عظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھیں جانا چاھیئے

بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی

" ابا جان اسلام وعلیکم"

بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائنات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا

ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہیں

نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى"

اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے..

آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگو اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کرے گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جائے

لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا..؟؟

آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ بنے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو شیئر کرکہ اپنا حصہ ڈالیں . کیا پتہ کون گنہگار پڑھ کر راہ راست پر آ جائے



Comments

Popular posts from this blog

Use of Dry Fruit in Daily Food

غذا میں خشک میوہ جات کا استعمال جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے ک ہ غذا میں خشک میوہ جات شامل کرنے کا وقت آگیا ہے ان کو کھانے سے آپ کی صحت بہتر ہوسکتی ہے۔ پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق سے پتا چلا کہ جو لوگ خشک پھل کھاتے ہیں ،  جیسے کشمش، کھجور اور اخروٹ۔ ان لوگوں کے مقابلے میں عام طور پر زیادہ صحتمند ہوتے ہیں اور جو لوگ خشک میوہ جات نہیں کھاتے۔ جن لوگوں نے خشک میوہ جات کو اپنی خوراک میں شامل کیا وہ ان لوگون کے مقابلے میں زیادہ صحتمند پاٰئےگئے تحقیقاتی ٹیم نے جانچ پڑتال کی کہ آیا خشک میوہ جات تازہ پھلوں کا متبادل ہوسکتے ہیں ، کیونکہ یہ سستے اور زیادہ عرصہ تک محفوظ کیے جا سکتے ہیں۔ اور انہوں نے قومی غزائی معائنے کے سروے میں 25590 شرکاء سے غذا اور صحت سے متعلق اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ انھوں نے پایا کہ لوگوں کے سروے میں خشک میوہ جات کے استعمال کرنے والے افراد کو صحت مند پایا جو نہیں کرتے تھے، اور ان کے جسم میں باڈی انڈیکس ، کمر کا ساںؑز اور بلڈ پریشر کم پایا گیا۔۔ محقق ویلری سلیوان نے کہا کہ مجھے یہ بھی دلچسپ معلوم ہوا کہ لوگ جن دنوں میں زیادہ سوکھا پھل کھایا تھا۔ ان دنوں میں جب...

Turkish Peoples Love Pakistan

Turkish Peoples Love Pakistan In 1920, the Indian National Congress also started supporting the Khilafah movement. Mahatma Gandhi's campaign of civil disobedience based on non-violence erupted from the womb of the Khilafah movement itself. Interestingly, Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah distanced himself from the movement because he thought it would not succeed. Before that, the movement gained momentum, in 1922 Kamal Ata Turk with the help of allies took over the country and deposed Caliph Abdul Hameed and abolished the office of Khilafah, and thus the sun of this great empire, which had ruled with glory for 623 years, set forever. The Indo Pak Muslim people were very enthusiastic to Participated in the Khilafah movement with enthusiasm. Maulana Syed Abul Hassan Ali Nadvi writes: 'For those who have not seen the period 1921-22, how Indo Pak was a volcano at that time, the victory of the Allies ended their plans against the Ottoman Empire and the Khilafah. The news of...